حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں ڈیڈلاک، آئندہ بات چیت کی کوئی تاریخ طے نہ ہوسکی
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات 4 اکتوبر کی رات تقریباً 3 بجے تعطل کا شکار ہوگئے۔ دونوں فریقوں نے اگلی نشست کے لیے تاحال کوئی تاریخ طے نہیں کی۔
حکومت کا مؤقف
حکومتی نمائندوں کے مطابق ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے دہشت گردی کے خلاف تعاون اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی واضح یقین دہانی نہیں کرائی۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی دیگر نکات پر اتفاق ہوچکا تھا اور مسودے میں متعدد بار ترامیم بھی کی گئیں۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور بدامنی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ طلال چوہدری نے بھی "آئینی آپشنز” کا ذکر کیا۔
پی ٹی آئی کا مؤقف
پی ٹی آئی کے مطابق مذاکرات میں اصل اختلاف عمران خان سے ملاقات کے معاملے پر ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملاقات اور عمران خان کی ہدایت کے بغیر مارچ کے مستقبل کا فیصلہ نہیں ہوسکتا۔
گوہر علی خان نے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی خواہش ظاہر کی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ مارچ برقرار ہے۔ پی ٹی آئی نے گورنر راج یا ایمرجنسی کو بھی مسئلے کا حل ماننے سے انکار کیا ہے۔
لانگ مارچ کی صورتحال
لانگ مارچ خیبرپختونخوا سے شروع ہوچکا ہے۔ گنڈی چوک، لکی مروت سے روانہ ہونے والے قافلے میں ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، شمالی و جنوبی وزیرستان اور بنوں سے آنے والے شرکاء شامل ہوں گے۔
پلان کے مطابق مارچ 5 اکتوبر کو کوہاٹ، 6 اکتوبر کو متنی اور 7 اکتوبر کو چارسدہ پہنچے گا۔ اگلے مرحلے کا اعلان 8 اکتوبر کو خیرباد میں متوقع ہے۔
