اسلام آباد | Kay News Urdu
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان، جسے ماضی میں سفارتی طور پر تنہا قرار دیا جاتا تھا، اب سفارتی، سیاسی اور معاشی طور پر مضبوط اور نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔ یہ کامیابی موجودہ حکومت کی متحرک اور اصولی خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔
وزارتِ خارجہ کی سالانہ کارکردگی پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ عالمی امور پر پاکستان کے واضح، اصولی اور بروقت مؤقف کو بین الاقوامی فورمز پر سراہا گیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے پر قومی میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا۔
سفارتی تنہائی سے عالمی سطح پر نمایاں کردار تک
اسحاق ڈار نے کہا کہ جب پی ڈی ایم حکومت نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا سمجھا جاتا تھا، تاہم آج پاکستان کا کردار عالمی برادری میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ چار روزہ مسلح کشیدگی کے دوران بھارت کی مبینہ بالادستی اور خطے میں سیکیورٹی فراہم کرنے کے دعوے زمین بوس ہو گئے۔
دفاع ناقابلِ تسخیر، امن پاکستان کی ترجیح
نائب وزیراعظم کے مطابق:
- پلوانہ واقعے کے بعد بھارت کے بے بنیاد الزامات کا مؤثر جواب دیا گیا
- بھارتی جارحیت کے باوجود پاکستان نے ذمہ داری اور تحمل کا مظاہرہ کیا
- پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور میزائل طاقت نے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کا داعی رہا ہے۔
معاشی طاقت بننے کا ہدف
اسحاق ڈار نے کہا کہ اب حکومت کی توجہ پاکستان کو معاشی طاقت بنانے پر مرکوز ہے، اور معاشی استحکام کے بعد پاکستان امتِ مسلمہ کی قیادت کا کردار ادا کر سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، جن میں:
- معدنیات
- قیمتی پتھر
- گیس
شامل ہیں، جبکہ ریکوڈک جیسے منصوبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری جاری ہے۔
یو اے ای سرمایہ کاری، 1 ارب ڈالر کی بڑی پیش رفت
نائب وزیراعظم نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر کے حالیہ دورے کے دوران:
- یو اے ای فوجی فاؤنڈیشن (فوجی گروپ) میں حصص حاصل کرے گا
- ایک ارب ڈالر کی لایبیلٹی سرمایہ کاری سے طے ہونے کی توقع ہے
- مزید دو ارب ڈالر کے قرضے کی ری اسٹرکچرنگ ممکن ہے
انہوں نے سعودی عرب، یو اے ای اور چین کا مالی استحکام میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
کشمیر، سندھ طاس معاہدہ اور عالمی مؤقف
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ:
- کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں
- پاکستان نے بھارت کے غیر قانونی اقدامات کو عالمی سطح پر اجاگر کیا
- سلامتی کونسل میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات ہوئی
انہوں نے کہا کہ کشمیر کا واحد حل استصوابِ رائے ہے، جیسا کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں درج ہے۔
سندھ طاس معاہدے پر پاکستان:
- او آئی سی
- مستقل ثالثی عدالت
- اقوام متحدہ
میں فعال طور پر مقدمہ لڑ رہا ہے، اور رپورٹس پاکستان کے مؤقف کے حق میں ہیں۔
بنگلہ دیش، امریکا اور عالمی تعلقات
اسحاق ڈار نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات میں بہتری کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دورے کے دوران اعلیٰ قیادت، سیاسی جماعتوں اور طلبہ نمائندوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔
امریکا سے تعلقات پر انہوں نے کہا کہ:
- تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات مثبت سمت میں جا رہے ہیں
- انسدادِ دہشت گردی تعاون مضبوط ہوا
- امریکا کے ساتھ دوطرفہ تجارت 13.28 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے
- پاکستان پر امریکی ٹیرف جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہے
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک بھارت سیزفائر میں امریکا نے اہم کردار ادا کیا، اور 11 جون کو صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا۔
برطانیہ میں پی ٹی آئی احتجاج پر سخت مؤقف
اسحاق ڈار نے برطانیہ میں پی ٹی آئی کے احتجاج کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ قتل کی دھمکیاں کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ:
- برطانوی حکومت کو ایسے واقعات روکنے کی ذمہ داری لینی چاہیے
- پاکستان نے ڈیمارش دینا بالکل درست قدم اٹھایا
افغانستان اور سارک پر تحفظات
نائب وزیراعظم نے طالبان حکومت کے رویے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات تشویشناک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سارک کی راہ میں واحد رکاوٹ بھارت ہے، جو افسوسناک ہے۔
