انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے متعدد اضلاع میں ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (VPN) کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام امن و قانون کی صورتحال برقرار رکھنے اور سوشل میڈیا کے مبینہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔
کولگام، شوپیان، کپوارہ، ڈوڈہ سمیت دیگر اضلاع کی ضلعی انتظامیہ نے الگ الگ احکامات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وی پی این کا استعمال غیر قانونی سرگرمیوں اور ہند مخالف مواد کی تشہیر کے لیے کیا جا سکتا ہے، جس سے قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
کپوارہ میں باضابطہ حکم نامہ جاری
منگل کے روز ضلع کپوارہ کے مجسٹریٹ سری کانت بالا صاحب سُوسے نے ایک تحریری حکم نامہ جاری کیا جس میں پولیس کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کا حوالہ دیا گیا۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ وی پی این کے بڑھتے استعمال پر تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے متوازی نیٹ ورک قائم کر کے حکومتی نگرانی سے بچا جا سکتا ہے۔
حکم نامے کے مطابق:
“وی پی این سروسز کو غیر قانونی اور ملک دشمن سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جانے کا خدشہ ہے، کچھ عناصر اس کے ذریعے عوام میں حکومت کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں جس سے امن و امان اور قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔”
خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی وارننگ
ضلعی انتظامیہ نے شوپیان، کولگام، ڈوڈہ اور دیگر اضلاع میں شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پولیس حکام کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران وی پی این استعمال کرنے والے کم از کم 10 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ کئی علاقوں میں پولیس موبائل فونز کی جانچ کر رہی ہے اور اگر کسی شہری کے فون میں وی پی این ایپ پائی جائے تو اسے حراست میں لیا جا رہا ہے۔
تین افراد روپوش قرار، جائیداد ضبطی کی وارننگ
دوسری جانب سری نگر کی انسداد دہشت گردی عدالت نے معروف تاجر اور چیمبر آف کامرس کے سابق صدر مبین شاہ، قالین کے تاجر عزیز الحسن عشائی عرف ٹونی عشائی اور کپوارہ سے تعلق رکھنے والی خاتون رفعت وانی کو روپوش قرار دے دیا ہے۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ اگر یہ افراد اگلے سال جنوری کے آخر تک عدالت میں پیش نہ ہوئے تو ان کی زمینیں اور مکانات ضبط کر لیے جائیں گے۔
انڈیا کے کونٹر انٹیلجنس محکمے کے مطابق یہ تینوں افراد سوشل میڈیا پر مختلف نیوز پورٹلز چلا رہے تھے اور ان پر جعلی خبریں پھیلانے اور انڈیا مخالف بیانیے کو فروغ دینے کا الزام ہے، جبکہ عوام کو تشدد اور حکومت مخالف احتجاج پر اکسانے کے شواہد بھی موجود ہیں۔
