دنیا بھر میں بدھ کی رات سے جمعرات کے آغاز پر لوگوں نے ایک مشکل مگر یادگار سال 2025 کو الوداع کہا اور نئے سال 2026 کے لیے امیدوں اور دعاؤں کا اظہار کیا۔
نئے سال کا آغاز سب سے پہلے بحرالکاہل میں انٹرنیشنل ڈیٹ لائن کے قریب واقع جزائر کریسمس آئی لینڈ (کریتیماٹی)، ٹونگا اور نیوزی لینڈ میں ہوا، جہاں جیسے ہی گھڑی نے رات بارہ بجائے، جشن کا سماں بن گیا۔

























دنیا کے آخری بڑے شہروں میں نیو یارک شامل تھا، جہاں شدید سردی اور منفی درجہ حرارت کے باوجود ٹائمز اسکوائر میں ہزاروں افراد نے روایتی بال ڈراپ دیکھ کر نئے سال کا استقبال کیا۔
سڈنی میں شاندار آتش بازی
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں حسب روایت شاندار آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا۔ تقریباً 40 ہزار آتش بازی کے اثرات سڈنی ہاربر اور تاریخی ہاربر برج پر 7 کلومیٹر کے علاقے میں پھیلائے گئے۔
یہ تقریب سخت سکیورٹی میں منعقد ہوئی، کیونکہ چند ہفتے قبل شہر میں ایک یہودی تقریب پر حملے میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
حملے کے متاثرین کے لیے رات 11 بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی، جبکہ ہاربر برج کو سفید روشنی سے روشن کیا گیا اور اس پر یہودی علامت مینوراہ بھی دکھائی گئی۔
ایشیا میں روایتی تقاریب
جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ہزاروں افراد بوسنگاک بیل پویلین پر جمع ہوئے، جہاں آدھی رات کو کانسی کی گھنٹی 33 مرتبہ بجائی گئی، جو بدھ مت کی روایت کے مطابق بدقسمتی کے خاتمے اور امن کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
چین میں عظیم دیوار کے قریب ڈھول کی خصوصی پرفارمنس پیش کی گئی، جبکہ شرکاء نے 2026 اور گھوڑے کی علامت والے بورڈز تھام رکھے تھے، کیونکہ چینی قمری کیلنڈر کے مطابق فروری میں سالِ گھوڑا شروع ہوگا۔
یورپ اور لاطینی امریکا
ہانگ کانگ میں ایک بڑے حادثے کے باعث آتش بازی منسوخ کر دی گئی اور اس کی جگہ روشنیوں کا شو منعقد ہوا، جس کا عنوان تھا “نئی امیدیں، نئی شروعات”۔
کروشیا میں فُوزینے شہر میں روایت کے مطابق دوپہر کے وقت ہی نیا سال منا لیا گیا، جہاں لوگوں نے موسیقی پر رقص کیا اور کچھ افراد نے برفیلے پانی میں غوطے بھی لگائے۔
برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں کوپاکابانا بیچ پر مشہور ریویلین جشن منایا گیا، جہاں منتظمین کو امید تھی کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی نیو ایئر تقریب کا ریکارڈ توڑ دیں گے۔
جنگ زدہ خطوں میں امن کی امید
یوکرین کے شہر کیف اور روس کے دارالحکومت ماسکو میں بھی لوگوں نے نئے سال کا استقبال کیا، جہاں کئی افراد نے جنگ کے خاتمے کی امید ظاہر کی۔
کیف میں 9 سالہ بچی اولیسیا نے کہا:
“مجھے لگتا ہے نئے سال میں امن آئے گا۔”
