نیویارک:
وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب کر لیا گیا ہے۔ امریکی حملوں کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے اور اجلاس میں وینزویلا کی صورتحال، علاقائی سلامتی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حملوں کے بعد وینزویلا کی تیل برآمدات مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہیں، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر بھی اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ اقتدار کی منتقلی تک امریکا وینزویلا کے معاملات خود چلائے گا۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے تیل کے ذخائر کو امریکی تحویل میں لیا جائے گا اور امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا میں سرمایہ کاری کریں گی۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر امریکا میں سال 2020 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مادورو کو ایک "بہت پُرکشش پیش کش” بھی دی گئی تھی، تاہم انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ گیم نہیں کھیلتے، وہ جو کہتے ہیں، کرکے دکھاتے ہیں۔
دوسری جانب چیئرمین امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین (Dan Caine) نے انکشاف کیا ہے کہ وینزویلا میں کیے گئے امریکی فوجی آپریشن میں 150 سے زائد بمبار اور فائٹر طیاروں نے حصہ لیا، جو حالیہ برسوں کی سب سے بڑی فوجی کارروائیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکا کے مؤقف کے ساتھ ساتھ وینزویلا، روس، چین اور دیگر رکن ممالک کے سخت ردعمل کی توقع کی جا رہی ہے۔
