اسلام آباد:
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے جس کی بنیادی وجہ وہاں دہشتگردوں کیلئے سازگار سیاسی ماحول کا موجود ہونا ہے۔
سینئر صحافیوں کو 2025 میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں پر بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ سال دہشتگردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئیں۔ ان کے مطابق 2024 میں 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے جبکہ دہشتگردی کے 5400 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 1235 قانون نافذ کرنے والے اہلکار اور شہری شہید ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان دہشتگردی کے خلاف پرعزم ہے اور دنیا نے پاکستان کے انسداد دہشتگردی اقدامات کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خوارج کا اسلام، پاکستان یا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ 2025 میں اب تک 5397 انسداد دہشتگردی آپریشنز کیے جا چکے ہیں جبکہ 2597 دہشتگرد مارے گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات سب سے زیادہ کیوں ہیں اور خود ہی جواب دیا کہ وہاں دہشتگردوں کو سیاسی و نظریاتی سہولت میسر ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ برس 27 خودکش حملے ہوئے جن میں سے 80 فیصد خیبر پختونخوا میں ہوئے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں ہونے والے دہشتگردی کے 10 بڑے واقعات میں افغان شہری ملوث تھے۔
انہوں نے کہا کہ 2021 میں افغانستان میں تبدیلی کے بعد دہشتگردی نے دوبارہ سر اٹھایا، دوحہ معاہدے میں افغان گروپ نے دہشتگردی کے خاتمے اور خواتین کی تعلیم کے وعدے کیے، مگر ان پر عمل نہ ہو سکا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے اور تمام بڑی دہشتگرد تنظیمیں وہیں موجود ہیں۔ امریکا افغانستان میں 7.2 ارب ڈالر کا جدید اسلحہ چھوڑ کر گیا جسے دہشتگرد تنظیمیں استعمال کر رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اکتوبر 2025 میں پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے بعد دہشتگردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی گئی اور گھنٹوں میں درجنوں افغان پوسٹیں تباہ کر دی گئیں تاکہ واضح پیغام دیا جا سکے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت معرکۂ حق میں ناکامی کے بعد دہشتگردی کو ہوا دے رہا ہے، جبکہ نام نہاد آپریشن سندور میں بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو پاکستان کے کسی شہری یا انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا کوئی حق حاصل نہیں۔
آخر میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، یہ محض فوج کی نہیں بلکہ ہر بچے، ہر شہری کی جنگ ہے، اور اگر اس ناسور کا خاتمہ نہ کیا گیا تو کل اسکول، دفاتر اور گلیاں غیر محفوظ ہو جائیں گی۔
