Table of Contents
تہران:
امریکا کی جانب سے ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کے درمیان ایران نے واشنگٹن کو سخت ترین انتباہ جاری کر دیا ہے۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اگر ایران پر کسی بھی قسم کا حملہ کیا گیا تو اس کا جواب اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر دیا جائے گا۔
ایرانی پارلیمان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ایران کسی بھی جارحیت کا خاموش تماشائی نہیں بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر حملے کی صورت میں اسرائیل اور امریکی اڈے ’’جائز فوجی اہداف‘‘ ہوں گے۔
قالیباف نے مزید کہا کہ دشمن اب براہِ راست محاذ کے بجائے اندرونی سطح پر دہشت گردی اور عدم استحکام پھیلانے کی جنگ میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں معیشت کے استحکام، زرِمبادلہ کی شرح پر کنٹرول اور عوام کی قوتِ خرید بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
ایران میں ہائی الرٹ اور پارلیمان کا اجلاس
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں پر بحث کے لیے ایرانی پارلیمان کا ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس کے دوران ارکانِ پارلیمان نے امریکا مخالف نعرے لگائے اور حکومت سے سخت مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔
اسی دوران عالمی سطح پر انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والی تنظیم نیٹ بلاکس نے تصدیق کی ہے کہ ایران میں گزشتہ 60 گھنٹوں سے زائد عرصے سے انٹرنیٹ سروس معطل ہے، جس سے ملک میں صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ کے بیانات اور امریکی مؤقف
گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری مظاہروں کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ایرانی عوام کو آزادی کی جانب بڑھنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایرانی حکومت نے مظاہرین کے خلاف تشدد جاری رکھا تو امریکا مداخلت پر مجبور ہو سکتا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اندر ایران کے خلاف ممکنہ فوجی آپشنز پر ابتدائی سطح کی بات چیت بھی ہوئی ہے، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تاحال کسی فوری حملے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔
اسرائیل ہائی الرٹ پر
ان بیانات کے بعد اسرائیل نے بھی ممکنہ امریکی مداخلت اور ایران کے ردعمل کے پیشِ نظر اپنے دفاعی نظام کو انتہائی ہائی الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔ اسرائیلی حکام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
احتجاجی تحریک کی پس منظر
واضح رہے کہ ایران میں احتجاجی مظاہروں کا آغاز 28 دسمبر کو تہران کے بازار میں تاجروں کی ہڑتال سے ہوا تھا، جو ملکی کرنسی کی قدر میں شدید کمی، مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خلاف تھی۔ یہ مظاہرے اب اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں اور متعدد شہروں میں حکومت مخالف نعرے بھی سنائی دے رہے ہیں۔
ایرانی حکام نے ان مظاہروں کا ذمہ دار بیرونی طاقتوں کو قرار دیتے ہوئے امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
خطے میں بڑھتا ہوا تناؤ
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ بیانات نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بار پھر خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف ایران اور امریکا بلکہ پورے خطے اور عالمی سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
