Table of Contents
واشنگٹن | Kay News Urdu
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایرانی عوام کو آزادی کی جانب بڑھنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل (Truth Social) پر جاری ایک پیغام میں دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ ایران شاید پہلی مرتبہ اس شدت سے آزادی کا خواہاں ہے اور امریکہ اس جدوجہد میں ساتھ دینے کے لیے تیار ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے تمام 31 صوبوں میں دسمبر کے اواخر سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور ملک بھر میں بدامنی اور تناؤ کی صورتحال برقرار ہے۔
امریکی انتظامیہ میں ممکنہ کارروائی پر غور
امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے ابتدائی سطح پر اس بات پر غور شروع کر دیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران کے خلاف کس نوعیت کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
معروف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ان بات چیت میں ممکنہ اہداف کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے انکشاف کیا کہ زیرِ غور آپشنز میں ایرانی فوجی اہداف پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے بھی شامل ہیں۔
تاہم ایک اور امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ تاحال کسی حتمی فیصلے پر اتفاق نہیں ہوا اور نہ ہی کسی ممکنہ حملے کے لیے فوجی سازوسامان یا اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
امریکی حکام نے واضح کیا کہ یہ مشاورت معمول کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے اور فی الحال ایران کے خلاف کسی فوری فوجی کارروائی کے کوئی واضح اشارے موجود نہیں۔
زمینی صورتحال اور بڑھتا ہوا تناؤ
میدانی رپورٹس کے مطابق حالیہ احتجاجی مظاہرے بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال، مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف شروع ہوئے، جو اب حکومت مخالف تحریک کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ مظاہرے 2022ء کی "عورت، زندگی، آزادی” تحریک کے بعد سب سے بڑی احتجاجی لہر سمجھے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں، جن میں کئی شہروں میں 48 گھنٹوں سے زائد انٹرنیٹ بندش بھی شامل ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔
عالمی ردعمل اور خدشات
یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا ہو۔ ماضی میں بھی وہ ایرانی قیادت کو براہ راست پیغامات دے چکے ہیں اور مظاہرین کو بہادر عوام قرار دیتے رہے ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ کے حامی ان بیانات کو تہران پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں، تاہم سیاسی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ایسے بیانات فوجی کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حالیہ عرصے میں ایرانی جوہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔
ادھر ایرانی حکومت نے ان مظاہروں کا ذمہ دار بیرونی عناصر کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی بیانات ایران کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہیں، اور کسی بھی عدم استحکام کی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔
