📍 ڈھاکہ
بنگلہ دیش میں جمعرات کو عام انتخابات 2026 کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جو سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد ملک کا پہلا بڑا سیاسی امتحان تصور کیا جا رہا ہے۔ اس انتخاب کے ساتھ ساتھ جولائی نیشنل چارٹر 2025 پر قومی ریفرنڈم بھی ہوگا، جو آئینی اور ریاستی اصلاحات کا روڈمیپ ہے۔
یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب 2024 میں طلبہ تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران تقریباً 1400 افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد شیخ حسینہ اقتدار سے بے دخل ہو کر بھارت میں جلا وطن ہو گئیں۔
ووٹنگ کب اور کیسے ہوگی؟
الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ
صبح 7:30 سے شام 4:30 بجے تک ہوگی۔
ملک بھر میں
- 64 اضلاع
- 42,761 پولنگ اسٹیشنز
- 300 قومی اسمبلی حلقے
اس بار پوسٹل ووٹنگ کا بھی آغاز کیا گیا ہے، جس سے تقریباً 1 کروڑ 50 لاکھ بیرونِ ملک بنگلہ دیشی شہری فائدہ اٹھا سکیں گے۔
انتخابی نظام کیا ہے؟
بنگلہ دیش میں یک ایوانی پارلیمنٹ (جاتیو شنگساد) ہے۔
- 300 نشستیں براہِ راست
- 50 نشستیں خواتین کیلئے مخصوص (نتائج کے بعد تناسب سے تقسیم)
اکثریت کیلئے 151 نشستیں درکار ہوں گی۔
داؤ پر کیا لگا ہے؟
یہ انتخاب:
- جمہوریت کی بحالی کا امتحان
- فوجی و سول بالادستی کا تعین
- نوجوان ووٹرز (Gen-Z) کی سیاسی طاقت کا پہلا بڑا اظہار
- اور عوامی لیگ کے بغیر سیاسی مستقبل کا تعین کرے گا
ماہرین کے مطابق یہ الیکشن بنگلہ دیش کی آئندہ دہائی کی سمت طے کرے گا۔
اہم سیاسی جماعتیں
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP)
- رہنما: طارق رحمان
- 10 جماعتی اتحاد
- بھارت کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور متوازن خارجہ پالیسی کا امکان
جماعتِ اسلامی (JIB)
- رہنما: شفیق الرحمان
- 11 جماعتی اتحاد
- طلبہ جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی شامل
- پاکستان، ترکی، چین اور امریکا سے قریبی روابط کا عندیہ
سروے کیا کہتے ہیں؟
امریکی ادارے International Republican Institute کے مطابق:
- BNP: 33%
- جماعت اسلامی: 29%
مقابلہ انتہائی سخت متوقع ہے۔
نتائج کب آئیں گے؟
غیر سرکاری نتائج
اگلے دن صبح آنا شروع ہو سکتے ہیں
تاہم ریفرنڈم بیلٹس شامل ہونے کے باعث تاخیر کا امکان ہے۔
