اسلام آباد میں واقع امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملے کے سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں پولیس آپریشن کے دوران مسلح افراد سے جھڑپ ہوئی ہے، جس میں ایک پولیس اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) اور ایک مسلح شدت پسند ہلاک ہو گیا۔
یہ کارروائی نوشہرہ کے علاقے حکیم آباد میں کی گئی جو نوشہرہ چھاؤنی کے قریب واقع ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق آپریشن رات تقریباً 9 بجے شروع ہوا جو چار گھنٹے تک جاری رہا۔
نوشہرہ پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انٹیلیجنس اداروں کی جانب سے اطلاع موصول ہوئی تھی کہ اسلام آباد امام بارگاہ خودکش حملے میں ملوث افراد کے سہولت کار اس علاقے میں موجود ہیں۔
پولیس کے مطابق حکیم آباد کے ڈیرہ کٹی خیل محلے میں چار سے پانچ مرلے پر مشتمل دو منزلہ مکان پر چھاپا مارا گیا جو شدت پسندوں کا خفیہ ٹھکانہ تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جیسے ہی پولیس نے مکان پر دستک دی، اندر سے فائرنگ شروع ہو گئی جس کے بعد پولیس نے جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر موقع پر ہی شہید ہو گیا جبکہ ایک اے ایس آئی اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
پولیس کے مطابق اس جھڑپ میں ایک شدت پسند بھی ہلاک ہوا جبکہ تین مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم گرفتار ملزمان کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔
ادھر پشاور میں بھی اسلام آباد امام بارگاہ حملے کے سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ سکیورٹی اداروں کی جانب سے آپریشن مزید علاقوں تک پھیلائے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
