بیجنگ : برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے چین کے صدر شی جن پنگ سے بیجنگ میں ملاقات کی ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کئی برسوں سے کشیدہ تعلقات کو ازسرِنو بہتر بنانا اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
چار روزہ دورۂ چین کے سب سے اہم دن، کیئر اسٹارمر کا بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں صدر شی جن پنگ نے استقبال کیا، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان تقریباً 40 منٹ تک ملاقات متوقع رہی، جس کے بعد مشترکہ ظہرانہ بھی دیا گیا۔ اسٹارمر بعد ازاں چینی وزیرِ اعظم لی چھیانگ سے بھی ملاقات کریں گے۔

برطانیہ کی سینٹر لیفٹ لیبر پارٹی کی حکومت کو اقتصادی ترقی کے وعدے پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث چین کے ساتھ تعلقات میں بہتری کو اسٹارمر نے اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل کیا ہے تاکہ کاروباری اور تجارتی مواقع حاصل کیے جا سکیں۔
ملاقات کے آغاز میں کیئر اسٹارمر نے صدر شی جن پنگ سے کہا کہ چین عالمی سطح پر ایک اہم کردار ادا کرنے والا ملک ہے اور برطانیہ اس کے ساتھ ایک زیادہ سنجیدہ اور متوازن تعلقات کا خواہاں ہے۔
اس موقع پر صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور برطانیہ کے تعلقات ماضی میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے، جو کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں تھے، اور چین برطانیہ کے ساتھ طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری کے لیے تیار ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب برطانیہ اور اس کے قریبی اتحادی امریکہ کے درمیان بھی کشیدگی پائی جاتی ہے، خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد، جن میں گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی دھمکیاں بھی شامل ہیں۔
چینی امور کے ماہر اور کنگز کالج لندن کے پروفیسر کیری براؤن کے مطابق، اس دورے کے دوران برطانیہ اور چین کے درمیان متعدد معاہدوں کا اعلان متوقع ہے تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔
یورپی اور دیگر مغربی ممالک بھی امریکہ کی غیر یقینی پالیسیوں کے پیشِ نظر چین کے ساتھ سفارتی سرگرمیاں تیز کر رہے ہیں۔ کیئر اسٹارمر کا دورہ کینیڈین وزیرِ اعظم مارک کارنی کے دورۂ چین کے فوراً بعد ہوا ہے، جنہوں نے بیجنگ کے ساتھ تجارتی رکاوٹیں ختم کرنے کے لیے ایک اقتصادی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
چین نے بھی اس موقع کو دوطرفہ تعلقات کے لیے ایک فیصلہ کن مرحلہ قرار دیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق چین اس دورے کو سیاسی اعتماد میں اضافے، عملی تعاون اور عالمی امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کا موقع سمجھتا ہے۔
کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ان کی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی وعدہ کیا تھا کہ برطانیہ کو ایک بار پھر دنیا کے ساتھ مضبوط روابط کی طرف لے جایا جائے گا، کیونکہ عالمی حالات کا براہِ راست اثر ملکی معیشت اور عوام کی زندگیوں پر پڑتا ہے۔
برطانوی اپوزیشن لیڈر کیمی بیڈنوک نے اس دورے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے چین کا دورہ نہ کرتیں۔ برطانوی سیکیورٹی ادارے چین پر جاسوسی کے الزامات لگاتے رہے ہیں، جنہیں چین مسترد کرتا ہے۔
دورے کے دوران دونوں ممالک نے غیر قانونی تارکینِ وطن کی اسمگلنگ میں ملوث گروہوں کے خلاف تعاون پر بھی اتفاق کیا ہے، جس کے تحت خفیہ معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا اور چھوٹی کشتیوں میں استعمال ہونے والے چینی ساختہ انجنوں کے غلط استعمال کو روکا جائے گا۔
کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق سے متعلق معاملات، بشمول ہانگ کانگ کے میڈیا ٹائیکون جمی لائی کا معاملہ بھی چینی قیادت کے سامنے اٹھائیں گے، تاہم اس دورے میں اقتصادی تعلقات کو ترجیح دی جا رہی ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 50 سے زائد برطانوی کاروباری رہنما بھی ان کے ہمراہ ہیں۔
