کابل | 20 جنوری
افغانستان میں سردی کی شدید لہر، عالمی امداد میں کٹوتی اور بڑے پیمانے پر افغان مہاجرین کی واپسی نے ملک کو بدترین انسانی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے، جہاں لاکھوں خاندان ایک وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کے مطابق اس وقت افغانستان میں ایک کروڑ 70 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جبکہ آنے والے مہینوں میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
’’ہم مرنے پر راضی ہو چکے ہیں‘‘ — کابل کے مضافات میں کسمپرسی کی تصویر
کابل کے مضافاتی علاقے میں ایک خیمے میں رہنے والے 55 سالہ سمیع اللہ نے کے نیوز اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
’’ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں موت قبول ہے، بس ہمارے بچوں کی زندگی بہتر ہو جائے۔‘‘
سمیع اللہ کا خاندان اُن لاکھوں افغانوں میں شامل ہے جنہیں ایران اور پاکستان سے واپس بھیج دیا گیا۔
خاندان کا روزانہ کا واحد کھانا سوکھی روٹی اور چائے ہے، جسے وہ اپنے پانچ بچوں اور تین ماہ کے نواسے کے ساتھ بانٹتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایران میں چھاپے کے دوران گرفتاری کے بعد انہیں راتوں رات بے دخل کر دیا گیا اور اپنی جمع پونجی بھی واپس نہ لا سکے جو سردیوں میں سہارا بنتی۔
25 لاکھ افغانوں کی جبری واپسی، معیشت پر کاری ضرب
WFP کے مطابق:
- ایران اور پاکستان سے 25 لاکھ سے زائد افغانوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے
- واپسی کے بعد آبادی میں 10 فیصد اضافہ ہوا
- بیرون ملک کام کرنے والے افغانوں کی ترسیلات زر ختم ہو گئیں
- مزید 30 لاکھ افراد شدید بھوک کے خطرے میں ہیں
WFP کے کنٹری ڈائریکٹر جان ایلیف کا کہنا ہے:
’’یہ ترسیلات افغانستان کے لیے زندگی کی علامت تھیں، اب وہ ختم ہو چکی ہیں۔‘‘
عالمی امداد میں کمی، بچے سب سے زیادہ متاثر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی کے بعد عالمی امدادی پروگرامز میں کٹوتی نے صورتحال مزید بگاڑ دی ہے۔
WFP کے مطابق:
- 2025 میں افغانستان میں غذائی قلت کا بدترین بحران ریکارڈ کیا گیا
- 2026 میں 2 لاکھ مزید بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں
بامیان میں امدادی مرکز پر خوراک موجود ہونے کے باوجود لمبی قطاریں اور ناکافی سامان تشویشناک منظر پیش کر رہا ہے۔
اسپتالوں پر دباؤ، دوگنے مریض
کابل کے قصابہ کلینک میں:
- غذائی قلت کے روزانہ 30 کیسز سامنے آ رہے ہیں
- مریضوں کی تعداد دوگنی ہو چکی ہے
- ادویات اور سپلیمنٹس ناکافی
30 سالہ لیلا نے کہا:
’’میرا بیٹا کچھ بہتر ہوتا ہے، مگر پھر دوبارہ کمزور ہو جاتا ہے۔‘‘
افغان حکومت کا مؤقف
افغان حکومتی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق:
- واپس آنے والے مہاجرین کو ٹرانسپورٹ، رہائش، خوراک اور علاج میں مدد دی جا رہی ہے
- غربت کا خاتمہ فوری ممکن نہیں
- معاشی منصوبوں کے اثرات آنے میں وقت لگے گا
