دمشق — شامی حکومت نے شمال مشرقی علاقوں میں کرد قیادت میں سرگرم سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کو مرکزی ریاست میں ضم ہونے کے لیے چار دن کی مہلت دے دی ہے، جبکہ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ کرد فورسز کے ساتھ شراکت کا مقصد اب ختم ہو چکا ہے۔
شامی حکومت اور SDF کے درمیان عارضی جنگ بندی کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔
صورتحال کی سنگینی
یہ پیش رفت شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے 13 ماہ بعد طاقت کے توازن میں آنے والی سب سے بڑی تبدیلی قرار دی جا رہی ہے۔
حالیہ دنوں میں:
- شامی افواج نے شمال مشرقی علاقوں میں تیزی سے پیش قدمی کی
- امریکی حمایت میں واضح کمی سامنے آئی
- کرد فورسز کو علاقائی کنٹرول چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا
امریکی مؤقف
امریکی خصوصی نمائندے ٹام بیراک نے سوشل میڈیا پر کہا:
“مرکزی شامی ریاست میں انضمام کردوں کے لیے سب سے بڑا موقع ہے”
انہوں نے واضح کیا کہ:
SDF کا اصل مقصد (داعش کے خلاف جنگ) اب ختم ہو چکا ہے
امریکہ شام میں طویل مدتی موجودگی نہیں چاہتا
صدر ٹرمپ کا بیان
واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شامی صدر احمد الشراع کی حمایت کرتے ہوئے کہا:
“وہ بہت محنت کر رہے ہیں، ہم نے داعش قیدیوں کے مراکز پر بھی بات کی ہے”
ٹرمپ نے مزید کہا:
- امریکہ کردوں کے تحفظ کی کوشش کر رہا ہے
- داعش کے ہزاروں خطرناک جنگجو اب بھی قید میں ہیں
چار روزہ جنگ بندی
شامی حکومت کے مطابق:
- منگل کی شام سے چار روزہ جنگ بندی نافذ
- SDF کو انضمام کا منصوبہ پیش کرنا ہوگا
- بصورت دیگر سرکاری افواج دو بڑے شہروں میں داخل ہو سکتی ہیں
SDF نے بھی تصدیق کی ہے کہ:
وہ حملہ نہیں کریں گے
صرف دفاعی کارروائی کریں گے
داعش قیدیوں کا بحران
- شادادی جیل سے 120 تا 200 داعش قیدی فرار
- شامی حکومت کے مطابق 81 دوبارہ گرفتار
- SDF نے الہول کیمپ سے بھی انخلا کر لیا
یہ کیمپ ہزاروں داعش سے منسلک شہریوں کی رہائش گاہ ہے۔
ترکی کا کردار
- کرد YPG فورسز ترکی کے لیے حساس معاملہ
- ترکی انہیں PKK کی شاخ قرار دیتا ہے
- شامی صدر احمد الشراع ترکی کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں
