بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے صوبے کی مجموعی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کو نو انٹری زون میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور حالات انتہائی سنگین ہو چکے ہیں۔
اختر مینگل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ
“میڈیا ہاؤسز سب خاموش ہیں، میں نے اپنی زندگی میں اس قدر تشویشناک صورتحال نہیں دیکھی۔ کیا وزیر داخلہ واضح کر سکتے ہیں کہ ایس ایچ او کہاں ہے؟”
اختر مینگل کے اس بیان پر بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ
“جب ہماری پولیس اور سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں تو نام نہاد سیاسی رہنما اپنا اصلی چہرہ دکھا رہے ہیں۔ ہم ان سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں، یہ ہمارے لیے کوئی عجیب بات نہیں۔”
صوبائی ترجمان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی ادارے صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے ہمہ وقت مصروفِ عمل ہیں اور ایسی تنقید فورسز کے حوصلے پست کرنے کے مترادف ہے۔
خیال رہے کہ اگست 2024 میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایک بیان بھی خاصی توجہ کا مرکز بنا تھا، جس میں انہوں نے کوئٹہ میں نیوز کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ
“بلوچستان میں کسی بڑے آپریشن کی ضرورت نہیں، یہ دہشت گرد ایک ایس ایچ او کی مار ہیں۔”
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ بزدل دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے کسی لمبی چوڑی حکمت عملی یا سائنس کی ضرورت نہیں، بلکہ مؤثر اور بروقت اقدامات ہی کافی ہیں۔
بلوچستان میں حالیہ سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں سیاسی بیانات اور جوابی ردعمل نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
