انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو بھارت کے خلاف میچ کے ممکنہ بائیکاٹ پر سنگین نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے فیصلے کے پاکستان کرکٹ پر طویل المدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
آئی سی سی کی جانب سے یہ بیان پاکستان حکومت کی جانب سے 2026 کے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف گروپ میچ کے بائیکاٹ کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ آئی سی سی نے واضح کیا کہ اسے تاحال اس معاملے پر پی سی بی کی جانب سے باضابطہ طور پر کوئی تحریری مؤقف موصول نہیں ہوا۔
آئی سی سی کے مطابق کسی عالمی ایونٹ میں منتخب میچز کا بائیکاٹ عالمی کھیل کے بنیادی اصولوں، شفافیت، برابری اور اسپورٹس اسپرٹ کے منافی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ آئی سی سی ٹورنامنٹس کھیل کی دیانت، مقابلے کے جذبے اور تسلسل پر قائم ہوتے ہیں، جبکہ کسی ایک میچ سے دستبرداری ان اصولوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
آئی سی سی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت اور پاکستان کا میچ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کا سب سے زیادہ کمرشل اور مقبول مقابلہ تصور کیا جا رہا ہے، اور اس سے دستبرداری عالمی کرکٹ ایکو سسٹم کو متاثر کر سکتی ہے، جس کا خود پاکستان بھی حصہ اور فائدہ اٹھانے والا رکن ہے۔
آئی سی سی کے مطابق اگر پاکستان 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلتا تو اسے نہ صرف دو پوائنٹس سے محروم ہونا پڑے گا بلکہ نیٹ رن ریٹ بھی متاثر ہو گا، جبکہ بھارت کا نیٹ رن ریٹ متاثر نہیں ہو گا۔
آئی سی سی کے قوانین کے مطابق میچ فورفیٹ کرنے والی ٹیم کے مکمل 20 اوورز نیٹ رن ریٹ کے حساب میں شامل کیے جاتے ہیں، جس سے پاکستان کی پوزیشن کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان گروپ اے میں بھارت، نیدرلینڈز، نامیبیا اور امریکا کے ساتھ شامل ہے اور اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا۔ پاکستان 7 فروری کو نیدرلینڈز کے خلاف، 10 فروری کو امریکا کے خلاف جبکہ 18 فروری کو نامیبیا کے خلاف میدان میں اترے گا۔
