اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش عالمی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آبی ذخائر کو قومی بقا کے لیے کلیدی حیثیت دیتا ہے اور اس معاملے پر کسی بھی غیر منصفانہ اقدام کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان 1971 کے آبی ذخائر سے متعلق عالمی معاہدے کا رکن ہے اور قابلِ بھروسہ آبی ذخائر کو ملک کی معاشی، زرعی اور سماجی ترقی کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبی ذخائر خشک سالی، سیلاب اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار اور روزمرہ زندگی براہِ راست پانی اور آبی ذخائر سے وابستہ ہے، جبکہ ان وسائل کا تحفظ انفرادی اور اجتماعی سطح پر سماجی فلاح و بہبود کی ضمانت ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے منصفانہ، شفاف اور مکمل نفاذ پر پختہ یقین رکھتا ہے اور عالمی برادری کو بھی اس معاہدے کی پاسداری یقینی بنانی چاہیے۔ شہباز شریف نے زور دے کر کہا کہ پانی جیسے بنیادی انسانی حق کو سیاسی یا جنگی دباؤ کے لیے استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
