اسلام آباد: پاکستان کی قومی اسمبلی نے بلوچستان کے مختلف شہروں پر حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کی ہے، جس میں کہا گیا کہ دہشت گرد نیٹ ورک خواتین کا استحصال کر کے انھیں ریاست اور معاشرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
قرارداد وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کی جانب سے پیش کی گئی، جس میں کہا گیا کہ شہری آبادی، خواتین اور بچوں پر حملے ناقابل معافی جرائم ہیں۔ ایوان نے مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف عدم برداشت کے اصول کے تحت فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔
قومی اسمبلی نے خدشہ ظاہر کیا کہ بعض حملوں میں بیرونی سرپرستی، خصوصاً بھارت کا کردار شامل ہو سکتا ہے، جبکہ ہمسایہ ممالک کی جانب سے لاجسٹک اور مالی مدد بھی دہشت گردانہ کارروائیوں کو تقویت دے رہی ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ان بیرونی سپانسرز اور اندرونی سہولت کاروں کے خلاف فوری اور مربوط قومی ردعمل یقینی بنایا جائے، جس میں سیاسی، سفارتی، عسکری، انٹیلی جنس، قانونی اور بیانیاتی محاذ یکجا ہوں۔
واضح رہے کہ ہفتے کے روز مسلح افراد نے کوئٹہ، مستونگ، قلات، نوشکی، خاران، دالبندین، تربت، تمپ، گوادر اور پسنی سمیت دیگر علاقوں میں مختلف تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ صوبے کے وزیرِ اعلیٰ کے مطابق ان حملوں میں مجموعی طور پر 31 شہری اور 17 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ 145 شدت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
یہ قرارداد بلوچستان میں امن، خواتین کے تحفظ، اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی یکجہتی کا اہم اقدام سمجھی جا رہی ہے۔
