پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے مختلف شعبوں میں تعاون کے 28 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کر دیے گئے۔ وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف نے مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کیے۔
تقریب میں دونوں ممالک کے درمیان وزارت خارجہ کے مابین تعاون بڑھانے، ترجیحی تجارت کے معاہدے کے تحت اشیاء کی فہرست میں توسیع، اور انٹر ریجنل فورم کے قیام کے معاہدوں کا تبادلہ کیا گیا۔ دفاعی شعبے میں تعاون کے لیے ایکشن پلان، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے نمٹنے، غذائی تحفظ اور زرعی تحقیق میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں پر بھی اتفاق ہوا۔

دونوں ممالک کے درمیان نشہ آور ادویات کی اسمگلنگ کی روک تھام، پلانٹ پروٹیکشن، کھیل، کان کنی اور جیو سائنسز، قیدیوں کے تبادلے، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائنس، تعلیم اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے شعبوں میں بھی معاہدے طے پائے۔ اس کے علاوہ میری ٹائم، ادویہ سازی، ٹیکسٹائل، تجارت میں سہولت، اور درمیانے و چھوٹے کاروبار (SMEs) کی ترقی کے لیے بھی ایم او یوز پر دستخط کیے گئے۔
تقریب میں ازبک صدر شوکت مرزایوف کو دوطرفہ قریبی تعلقات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات وقت کے ساتھ مستحکم ہوئے ہیں اور تاریخی روابط دونوں ممالک کے شاندار مستقبل کے عکاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی روابط کے فروغ، تجارت، سرمایہ کاری اور تزویراتی تعاون کے لیے پاکستان مکمل طور پر پُرعزم ہے۔
ازبک صدر شوکت مرزایوف نے وزیراعظم شہباز شریف کا پرتپاک استقبال اور شاندار میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ازبکستان کا قریبی دوست اور قابل اعتماد شراکت دار ہے۔ انہوں نے پاکستان کی معاشی ترقی اور استحکام کے لیے جاری کاوشوں کو سراہا۔
ازبک صدر کے دورے کے دوران اسلام آباد میں ایک سڑک کو تاشقند کے نام سے موسوم اور ایک پارک کو مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر کے نام سے منسوب کرنے کی تقریب بھی منعقد ہوئی، جسے وزیراعظم نے دونوں ممالک کے تاریخی و ثقافتی روابط کی علامت قرار دیا۔

قبل ازیں ازبک صدر نے اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز کا دورہ کیا جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ان کا استقبال کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق صدر ازبکستان کو پاکستان کی دفاعی، صنعتی اور تکنیکی صلاحیتوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور وفد نے پاکستان میں تیار کردہ جدید دفاعی آلات کا مشاہدہ کیا۔
