واشنگٹن میں United States Senate Banking Committee کے ڈیموکریٹ اراکین نے صدر Donald Trump کو روس پر دباؤ بڑھانے میں ناکامی پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
کمیٹی کی جانب سے جاری تجزیے کے مطابق روس کے یوکرین پر حملے کی چوتھی برسی پر یہ نشاندہی کی گئی کہ 2025 میں European Union نے تقریباً 900 اہداف پر پابندیاں عائد کیں جبکہ امریکا نے صرف دو بڑے اہداف کو نشانہ بنایا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ سابق صدر Joe Biden نے جنگ کے پہلے تین برسوں میں کم از کم 32 پابندیوں کے پیکجز جاری کیے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے صرف ایک بڑی پابندی کا اعلان کیا جو روسی آئل کمپنیوں Lukoil اور Rosneft کے خلاف تھی۔
ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ روس اب بھی جنگی سازوسامان کے لیے درکار ٹیکنالوجی درآمد کرنے پر انحصار کر رہا ہے اور امریکا کے پاس مزید پابندیوں کے متعدد مواقع موجود تھے، جنہیں استعمال نہیں کیا گیا۔
مجوزہ بل پر پیش رفت نہ ہو سکی
یوکرین کی امریکا میں سفیر اولہا اسٹیفانیشینا نے دو جماعتی حمایت یافتہ بل کی فوری منظوری پر زور دیا جس کے تحت روسی تیل، گیس اور یورینیم خریدنے والے ممالک پر پابندیاں عائد کی جانی ہیں۔ سینیٹ کے 100 میں سے 85 ارکان اس بل کی حمایت کر چکے ہیں تاہم ریپبلکن قیادت نے اسے ووٹنگ کے لیے پیش نہیں کیا۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ روسنیفٹ اور لوک آئل پر پابندیوں کے باعث روسی تیل کی قیمتوں میں کمی آئی جس سے کریملن کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق مزید پابندیاں مذاکرات کی پیش رفت سے مشروط ہوں گی۔
ممکنہ اہداف کی فہرست
رپورٹ میں چین اور ہانگ کانگ کی 130 سے زائد کمپنیوں سمیت متعدد بین الاقوامی اداروں کو ممکنہ اہداف قرار دیا گیا جو روس کو محدود شدہ ٹیکنالوجی فراہم کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سوال یہ ہے کہ آیا واشنگٹن سفارتی دباؤ بڑھانے کے لیے مزید اقتصادی اقدامات کرے گا یا مذاکراتی عمل کو ترجیح دے گا۔
