اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) نے متحدہ عرب امارات کے 2 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس کے ایک سالہ رول اوور میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کر دیا، جبکہ اسٹیٹ بینک حکام نے وفد کو یقین دہانی کرائی ہے کہ قلیل مدتی انتظامات مکمل ہیں اور طویل مدتی رول اوور کے لیے یو اے ای سے مذاکرات جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف جائزہ مشن کراچی اور اسلام آباد پہنچ چکا ہے جہاں تکنیکی سطح پر زرمبادلہ ذخائر، مانیٹری پالیسی، شرح تبادلہ مینجمنٹ اور بینکنگ ریگولیشنز پر تفصیلی مذاکرات کیے گئے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ رول اوور میں کوئی مسئلہ نہیں، تاہم ماہرین معاشیات کے مطابق تحریری یقین دہانی نہ ملنا مالیاتی غیر یقینی صورتحال کو بڑھا سکتا ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفارتی حکام سے بھی براہ راست رابطہ کر کے نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہتا ہے، جو جاری پروگرام کے جائزے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق یو اے ای نے اپنے ڈیپازٹس واپس نہیں لیے اور طویل مدتی رول اوور پر بات چیت جاری ہے، تاہم ایک سینئر سرکاری اہلکار نے اعتراف کیا کہ ابھی تک تحریری تصدیق نہ ملنا معاشی خطرات کو بڑھا رہا ہے۔
دستاویزی بریفنگ کے مطابق اسٹیٹ بینک میں یو اے ای کے کل 3 ارب ڈالر موجود ہیں، جن میں سے دو ایک ارب ڈالر کے ڈیپازٹس جنوری میں میچور ہوئے تھے، پہلے مختصر مدت کے لیے رول اوور کیے گئے اور اب عارضی طور پر اپریل تک توسیع دی گئی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر طویل مدتی رول اوور میں تاخیر ہوتی ہے تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر، بیرونی ادائیگیوں اور روپے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ 6.5 فیصد سے زائد شرح سود پر ڈیپازٹس کی لاگت بھی مالی بوجھ میں اضافہ کر سکتی ہے۔
اسٹیٹ بینک حکام نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ جنوری میں کرنٹ اکاؤنٹ 121 ملین ڈالر سرپلس رہا، تاہم مالی سال کے پہلے سات ماہ میں 1.74 ارب ڈالر خسارہ بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کی واضح نشاندہی کرتا ہے، جو آئندہ اقتصادی پالیسی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
