پیانگ یانگ: شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کو ایک بار پھر صدرِ امورِ مملکت (State Affairs President) مقرر کر دیا گیا ہے۔
سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق یہ فیصلہ سپریم پیپلز اسمبلی کے اجلاس کے بعد کیا گیا، جو ملک کا اعلیٰ قانون ساز ادارہ ہے اور حکومتی پالیسیوں کی منظوری دیتا ہے۔
اجلاس میں سوشلسٹ آئین میں ترامیم، ریاستی اداروں کی تشکیل نو اور قیادت کے اہم عہدوں پر تقرریاں زیر غور آئیں۔
رپورٹس کے مطابق اس اجلاس میں ملک کے پانچ سالہ اقتصادی منصوبے کا بھی جائزہ لیا جائے گا، جو گزشتہ پارٹی کانگریس میں پیش کیا گیا تھا۔
ماہرین کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا شمالی کوریا اپنی پالیسی میں مزید تبدیلی کرتے ہوئے جنوبی کوریا کے حوالے سے “دو دشمن ریاستوں” کے مؤقف کو آئینی شکل دیتا ہے یا نہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں کم جونگ اُن نے جنوبی کوریا کے ساتھ پرامن اتحاد کی پالیسی ترک کرتے ہوئے اسے دشمن ریاست قرار دیا ہے۔
دوسری جانب کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ کا نام اس بار ریاستی امور کے اعلیٰ ادارے کی فہرست میں شامل نہیں تھا، جس پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی عدم شمولیت اثر و رسوخ میں کمی کی علامت نہیں بلکہ کردار کی نئی تقسیم ہو سکتی ہے، اور وہ بدستور حکمران جماعت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
