واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پاور گرڈ پر ممکنہ حملوں کی ڈیڈ لائن میں ایک بار پھر توسیع کرتے ہوئے اسے 6 اپریل 2026 تک مؤخر کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کی درخواست اور جاری مذاکرات کے پیش نظر توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا فیصلہ 10 دن کیلئے مؤخر کیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم تہران پہلے ہی ایسے کسی بھی براہ راست مذاکرات کی تردید کر چکا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز—جو عالمی تیل ترسیل کیلئے نہایت اہم گزرگاہ ہے—کو کھولنے کیلئے امریکا کی جانب سے ایران پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے اس سے قبل دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہ کھولا تو امریکا ایران کی بڑی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔
یہ دوسری بار ہے کہ امریکی صدر نے حملوں کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی اور عسکری حکمت عملی میں تضاد پایا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کے پاور گرڈ کو نشانہ بنانا نہ صرف جنگ کو مزید وسعت دے سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر شدید تنقید کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
