اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان سنیچر کو متوقع اعلیٰ سطح مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال تاحال برقرار ہے، جبکہ ایران نے کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی۔
تہران میں وزارتِ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق “ابھی کچھ حتمی فیصلہ نہیں ہوا”، جس سے مذاکرات کے انعقاد پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایرانی وفد کی پاکستان آمد کی خبریں سامنے آئیں، تاہم بعد میں ان کی تردید کر دی گئی اور متعلقہ پوسٹ بھی حذف کر دی گئی۔
اس کے باوجود اسلام آباد میں جاری سفارتی تیاریوں سے عندیہ ملتا ہے کہ پاکستان مذاکرات کے انعقاد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور امکانات ابھی ختم نہیں ہوئے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق مذاکرات کو لبنان میں جنگ بندی سے مشروط کیا گیا ہے، جبکہ نائب وزیر خارجہ Saeed Khatibzadeh نے بھی اس مؤقف کی تصدیق کی ہے۔
یہ صورتحال ایران کے لیے ایک مشکل فیصلہ بن چکی ہے:
- آیا وہ اپنے اتحادی Hezbollah کے مؤقف سے پیچھے ہٹے
- یا اہم عالمی سفارتی عمل کو خطرے میں ڈال دے
ماہرین کے مطابق آخری لمحات تک جاری رہنے والی سفارتی کوششیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خطے میں جنگ بندی اور مذاکرات دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور کسی بھی پیشرفت کا دارومدار زمینی صورتحال پر ہے۔
