شام کو پیرس میں جی سیون مالیاتی اجلاس میں مدعو کیا گیا — عالمی سطح پر بڑھتی پہچان کی نشانی
شام پیرس میں پیر کو ہونے والے جی سیون وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک گورنروں کے بند کمرے اجلاس میں شریک ہوگا۔ یہ اطلاع معاملے سے واقف ذرائع نے دی ہے۔ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کو ابھی دو سال بھی نہیں بیتے، مگر اس دوران شام نے عالمی برادری میں اپنی جگہ تیزی سے مستحکم کی ہے۔
ذرائع کے مطابق شامی وزیر خزانہ یسر برنیہ اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس میں دو بنیادی نکات زیر بحث آئیں گے: شام کی پائیدار اقتصادی بحالی اور اسے دوبارہ عالمی مالیاتی ڈھانچے میں ضم کرنے کا راستہ۔
شام کی اس اجلاس میں موجودگی کوئی معمولی بات نہیں۔ جی سیون، جو دنیا کی سات بڑی صنعتی معیشتوں کا اتحاد ہے، عام طور پر اپنے بند اجلاسوں میں باہر کے ممالک کو بہت کم مدعو کرتا ہے۔ شام کو یہ موقع ملنا اس بات کی علامت ہے کہ نئی شامی قیادت مغربی طاقتوں کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے میں کامیاب ہو رہی ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے مالیاتی پابندیوں اور تنہائی کا شکار رہنے والے شام کے لیے یہ لمحہ ایک نئے باب کا آغاز ہو سکتا ہے۔ عالمی مالیاتی نظام میں واپسی نہ صرف سرمایہ کاری کے دروازے کھول سکتی ہے، بلکہ جنگ سے تباہ حال ملک کی تعمیر نو کو بھی رفتار دے سکتی ہے۔
