رجنی کانت نے وجے کی کامیابی پر خاموشی توڑ دی، حسد کی افواہیں مسترد
بھارتی سنیما کے سپر اسٹار رجنی کانت نے آخرکار وہ خاموشی توڑ دی جو جوزف وجے کی تامل ناڈو انتخابات میں کامیابی اور وزیراعلیٰ بننے کے بعد سے ان کے بارے میں کئی قیاس آرائیوں کو جنم دے رہی تھی۔ ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے تمام افواہوں کا سیدھا جواب دیا اور اپنا موقف بے لاگ انداز میں پیش کیا۔
رجنی کانت نے کہا کہ انتخابات کے حوالے سے ان پر بھاری تنقید کی جا رہی ہے اور اگر وہ جواب نہ دیں تو یہ باتیں سچ تصور ہونے لگیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ نتائج کے بعد تامل ناڈو کے سابق وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن سے ان کی ملاقات بھی تنقید کی زد میں آئی، جبکہ ان دونوں کی دوستی سیاسی وابستگیوں سے کہیں پرے ہے۔
وجے کے ساتھ حسد یا ناراضی کی افواہوں کو انہوں نے سختی سے رد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نتائج آتے ہی انہوں نے وجے کو مبارک باد دی تھی، اور جب وہ خود سیاست میں نہیں ہیں تو حسد کی بات کہاں سے آئی؟
ہلکے پھلکے انداز میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ شاید کمل ہاسن اگر وزیراعلیٰ بن جائیں تو انہیں حسد ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ ہم عمر اور پرانے رقیب ہیں۔ وجے اور ان کے درمیان پچیس سال کا فاصلہ ہے، اس لیے یہ موازنہ سرے سے بنتا ہی نہیں۔ یہ مزاحیہ جملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور مداحوں نے پریس میٹ کی ویڈیوز بڑے پیمانے پر پھیلائیں۔
رجنی کانت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وجے کی سیاسی کامیابی ان کے لیے غیر متوقع تھی۔ تاہم انہوں نے صاف کیا کہ وہ اس کامیابی کو خوش دلی سے قبول کرتے ہیں اور اس میں خوشی کے سوا کچھ نہیں محسوس کرتے۔
