ثنا یوسف قتل کیس: ملزم عمر حیات کو سزائے موت، 30 سال قید اور 24 لاکھ جرمانہ
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کیس میں ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی۔ ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے جرم ثابت ہونے پر ملزم کو پھانسی کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ مجموعی طور پر 30 سال قید اور 24 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا
عدالت نے مقدمے کی مختلف دفعات کے تحت الگ الگ سزائیں سنائیں۔ ڈکیتی کی دفعات کے تحت 10 سال، گھر میں زبردستی داخل ہونے کی دفعات کے تحت 10 سال، اور دیگر دفعات میں بھی 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
سماعت میں کیا ہوا؟
سماعت کے دوران عدالت میں ملزم عمر حیات کی کالز اور چیٹ کے اسکرین شاٹس پیش کیے گئے۔ مدعی کے وکیل نے استدعا کی کہ ملزم کو دو بار سزائے موت دی جائے۔
ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو درخواستیں پہلے سے زیرِ التوا ہیں اور ملزم کو آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت منصفانہ ٹرائل کا حق دیا جائے۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ وکیل اور جج کے درمیان ذاتی رنجش ملزم کے مقدمے پر اثرانداز نہیں ہونی چاہیے۔
وکیل ملزم نے ایک موقع پر یہ بھی کہا کہ این جی اوز یا نام نہاد لبرل دباؤ کے تحت فیصلہ نہ کیا جائے اور کیس کو معاشرتی بحث کی طرف نہ موڑا جائے۔ اس پر جج افضل مجوکہ نے وکیل کو سختی سے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو گمراہ نہ کریں۔
ملزم نے الزام ماننے سے انکار کیا
گزشتہ سماعت میں ملزم عمر حیات نے صحتِ جرم سے صاف انکار کر دیا تھا۔ اس نے کہا کہ نہ تو اس نے ثنا کو قتل کرنے کا کوئی اعتراف کیا اور نہ کوئی انکشاف۔ ملزم کے مطابق ثنا یوسف سے اس کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔
تاہم جج نے استفسار کیا کہ موبائل فارنزک کے بعد ثنا کے فون سے “کاکا” کے نام سے محفوظ نمبر ملزم کا نکلا — اس پر عمر حیات نے کہا کہ وہ وکیل کی غیر موجودگی میں کوئی جواب نہیں دے سکتے۔
پس منظر
ثنا یوسف کو 2 جون 2025 کو اسلام آباد میں ان کے اپنے گھر میں قتل کیا گیا تھا۔ اگلے ہی روز، یعنی 3 جون کو، ملزم عمر حیات کو جڑانوالہ سے گرفتار کر لیا گیا۔ اس مقدمے نے ملک بھر میں خواتین کے تحفظ اور سائبر ہراسانی کے موضوع پر وسیع بحث چھیڑ دی تھی۔ عدالت کا یہ فیصلہ اس کیس میں ایک اہم سنگِ میل ہے، تاہم ملزم کے پاس اعلیٰ عدالت میں اپیل کا راستہ موجود ہے۔
