غزہ تعمیرِ نو: ٹرمپ کے بورڈ نے فنڈنگ کی کمی کا اعتراف کر لیا
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے قائم کردہ “بورڈ آف پیس” نے اپنی تازہ رپورٹ میں تسلیم کیا ہے کہ فنڈنگ کے وعدوں اور اصل ادائیگی کے درمیان خلیج موجود ہے، جسے فوری طور پر پر کیا جانا ضروری ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ اندازہً ستّر ارب ڈالر کے اس منصوبے میں نقدی کی یہ کمی سنگین رکاوٹ بن سکتی ہے۔
غزہ میں جاری جنگ ختم کرنے اور تباہ حال علاقے کو از سرِ نو آباد کرنے کے لیے ٹرمپ نے یہ بورڈ خود قائم کیا تھا۔ اس کے دائرہ کار میں دوسرے تنازعات بھی شامل کیے جانے کی بات کہی گئی تھی۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بورڈ کو تسلیم کیا ہے، تاہم کئی بڑی طاقتیں اب تک اس میں شامل نہیں ہوئیں — صرف امریکا کے قریبی مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی اور چند چھوٹے ممالک ہی اس کا حصہ بنے ہیں۔
کے نیوز نے اپریل میں یہ انکشاف کیا تھا کہ بورڈ کو اراکین کی جانب سے کیے گئے سترہ ارب ڈالر کے وعدوں میں سے ابھی تک بہت کم رقم ملی ہے، جس کے باعث ٹرمپ کا منصوبہ آگے نہیں بڑھ پا رہا۔ بورڈ نے اس خبر کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ضرورت کے مطابق سرمایہ طلب کرنے والا ادارہ ہے اور فنڈنگ میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ یہ رقم غزہ کی تعمیرِ نو کے ساتھ ساتھ امریکی حمایت یافتہ نئی عبوری حکومت کے اخراجات کے لیے مختص کی گئی ہے۔
یہ معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ غزہ کے مستقبل سے متعلق بین الاقوامی وعدے ابھی زمینی حقیقت نہیں بن سکے۔ جب تک فنڈنگ کا یہ خلا نہیں بھرا جاتا، تعمیرِ نو کا عمل محض کاغذی منصوبہ ہی رہے گا۔
