امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں — 19 جہاز اور کرنسی نیٹ ورک زد میں
امریکا نے ایران کے مالیاتی اور بحری نظام کو ایک بار پھر نشانہ بناتے ہوئے نئی اور جامع پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان پابندیوں میں ایران سے منسلک افراد، کرنسی ایکس چینج نیٹ ورک اور 19 بحری جہاز شامل ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران ایک پوشیدہ مالیاتی ڈھانچے اور غیر قانونی شپنگ چینلز کے ذریعے تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات فروخت کرتا آ رہا تھا، جس سے سالانہ اربوں ڈالر ایران منتقل ہوتے تھے۔ نئی پابندیوں کا مقصد اس نیٹ ورک کو توڑنا اور ایران کی آمدنی کے یہ ذرائع بند کرنا ہے۔
اسی اعلان میں واشنگٹن نے غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے بین الاقوامی فلوٹیلا “گلوبل صمود” کے چار ارکان کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا۔ اس اقدام پر بین الاقوامی حلقوں میں ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کے ایک نازک مرحلے پر یہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں پیچیدگی کی عکاسی کرتی ہیں۔
