انٹارکٹیکا میں ‘ڈینجر زون’ کا راز کھل گیا — نئے جزیرے کا پہلی بار نقشہ تیار
انٹارکٹیکا ہمیشہ سے ایسا براعظم رہا ہے جس کے کئی گوشے ابھی تک انسانی نظروں سے اوجھل ہیں۔ اب جرمن سائنسدانوں نے وہاں ایک ایسا جزیرہ دریافت کیا ہے جسے طویل عرصے سے سمندری نقشوں پر ‘ڈینجر زون’ کے طور پر نشان زد کیا جاتا تھا، مگر اس کی حقیقت کسی کو معلوم نہ تھی۔
یہ دریافت جرمنی کے الفریڈ ویگینر انسٹیٹیوٹ (اے ڈبلیو آئی) کی ایک سائنسی مہم کے دوران ہوئی۔ محققین کی یہ ٹیم شمال مغربی بحیرہ ودل میں سمندری برف کی کمی کا مطالعہ کر رہی تھی کہ اچانک موسم خراب ہو گیا۔ طوفانی ہوا اور اونچی لہروں سے بچنے کے لیے انہوں نے جوائن ول آئی لینڈ کی طرف رخ کیا اور وہیں پناہ لیتے ہوئے ایک انجان جزیرے کو دیکھا۔
محققین نے بتایا کہ سفر کے دوران سمندری چارٹ میں ایک ایسا علاقہ نظر آیا جسے نیوی گیشن کے لیے خطرناک قرار دیا گیا تھا، لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ آخر وہاں ہے کیا۔ جب انہوں نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو ایک برفانی تودہ نظر آیا جو معمول سے ہٹ کر دکھائی دے رہا تھا۔ قریب جانے پر اندازہ ہوا کہ یہ برف نہیں بلکہ چٹان ہے۔ جب انہوں نے اس سمت میں جہاز موڑا تو تصویر مزید واضح ہوتی گئی — ایک پورا جزیرہ ان کے سامنے موجود تھا۔

ٹیم نے فوری طور پر وہاں پہنچ کر جزیرے کا جائزہ لیا۔ ایکو ساؤنڈر اور ڈرون امیجنگ کے ذریعے سمندری تہہ کا سروے کیا گیا اور پہلی بار اس کا مکمل نقشہ تیار کیا گیا۔ یہ جزیرہ سائز میں بہت چھوٹا ہے — لمبائی صرف 426 فٹ اور چوڑائی 164 فٹ۔ سمندر سے اس کی اونچائی محض 16 میٹر ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق ابھی یہ پوری طرح واضح نہیں کہ اس جگہ کو ‘خطرے’ کا نشان کیوں دیا گیا تھا۔ ان کا خیال ہے کہ اس خطے کے نقشے زیادہ تر کم ریزولوشن سیٹلائیٹ ڈیٹا سے بنائے گئے ہیں، جس کی وجہ سے یہ علاقہ مشکوک لگتا رہا۔ جزیرے کا نام ابھی طے نہیں ہوا — اس کے لیے ایک باضابطہ عمل شروع کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ بحیرہ ودل کے ایک چوتھائی سے بھی کم حصے کا درست نقشہ موجود ہے، یعنی وہاں ابھی بھی بہت کچھ دریافت ہونا باقی ہے۔ سیٹلائیٹ دور میں بھی اس طرح کی دریافت ممکن ہو سکتی ہے — یہ بات خود محققین کو بھی حیران کر گئی۔
