مالی سال 2025-26 کا اقتصادی سروے جاری — شرح نمو 3.7 فیصد، حکومت اہم معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 2025-26 کا قومی اقتصادی سروے پیش کردیا۔ اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے آغاز میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہا، مون سون بارشوں سے معیشت متاثر ہوئی اور امریکا کی جانب سے مختلف ممالک پر ٹیرف عائد کیے جانے سے بھی عالمی سطح پر بے یقینی بڑھی۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ ان تمام چیلنجز کے باوجود حکومت بحران سے نکلنے میں کامیاب رہی۔ ملکی معاشی شرح نمو 4.2 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 3.7 فیصد رہی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال نہ بنتی تو جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد سے اوپر جاتی۔
پاکستانی معیشت کا حجم اب 452 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے۔ فی کس سالانہ آمدن گزشتہ سال کے 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہوگئی، تاہم روپے میں فی کس آمدن 5 لاکھ 60 ہزار 803 روپے کے سالانہ ہدف کے مقابلے میں 5 لاکھ 33 ہزار 629 روپے تک محدود رہی۔
:زراعت اور صنعت
زرعی شعبے کی شرح نمو 4.5 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 2.89 فیصد رہی جبکہ صنعتی شعبے کی گروتھ 4.30 فیصد کے ہدف کے برعکس 3.51 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ خدمات کے شعبے نے البتہ اپنا ہدف معمولی طور پر عبور کیا اور 4.09 فیصد شرح نمو حاصل کی۔
فصلوں میں گندم کی پیداوار 4.3 فیصد اضافے سے 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن، چاول 2.8 فیصد اضافے سے 99 لاکھ 98 ہزار ٹن اور چنے کی پیداوار میں 50.4 فیصد کی غیر معمولی بڑھوتری ریکارڈ کی گئی۔ دوسری طرف کپاس کی پیداوار 0.5 فیصد کم ہوکر 70 لاکھ 52 ہزار گانٹھوں تک رہی۔
:تجارت اور ترسیلات
رواں مالی سال درآمدات کا ہدف 65.2 ارب ڈالر تھا اور گیارہ ماہ میں یہ 63 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ برآمدات 35.3 ارب ڈالر کے ہدف کے مقابلے میں گیارہ ماہ میں 28 ارب ڈالر رہیں۔ ترسیلات زر میں 9 فیصد اضافہ ہوا اور گیارہ ماہ میں 38 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، جون کے آخر تک یہ 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
:مہنگائی
مئی 2026 میں مہنگائی کی ماہانہ شرح 11.66 فیصد ریکارڈ کی گئی، تاہم گیارہ ماہ کی اوسط مہنگائی 7 فیصد رہی جو 7.50 فیصد سالانہ ہدف سے کم ہے۔
:بڑی صنعتیں اور تعمیرات
بڑی صنعتوں نے 3.5 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 6.1 فیصد شرح نمو حاصل کی جو ایک نمایاں کارکردگی ہے۔ تعمیراتی شعبے کی گروتھ بھی 3.8 فیصد کے ہدف سے بڑھ کر 5.7 فیصد رہی۔ البتہ بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے میں 10 فیصد تک گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
