امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت برقرار نہیں رہی، ایرانی نائب وزیر خارجہ
ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت برقرار نہیں رہی اور ایران اب اس کی پیروی کا پابند نہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کے خاتمے کے لیے ایک شق کی خلاف ورزی ہی کافی تھی، جبکہ امریکا نے تو ایم او یو کی تمام شقوں کی دھجیاں اڑا دیں۔
کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں ایران پر بھی معاہدے کی پابندی لازم نہیں رہی اور آئندہ فیصلے قومی مفادات کے مطابق کیے جائیں گے۔ ان کا اشارہ اسلام آباد میں طے پانے والی اس مفاہمتی یادداشت کی جانب تھا جس میں آبنائے ہرمز سے متعلق ترتیبات بھی شامل تھیں۔
دوسری جانب ایران کی پارلیمانی سیکیورٹی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت باقی نہیں رہی۔ ان کے مطابق امریکا نے معاہدے کی تمام شقوں کی خلاف ورزی کی اور دشمن اب باضابطہ طور پر جنگ میں داخل ہو چکا ہے۔ رضائی نے بتایا کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کی سلامتی سے متعلق ایک ایکشن پلان پارلیمان میں پیش بھی کیا جا چکا ہے۔
