پاکستانیوں کی بیرون ملک روزگار کے لیے روانگی میں کمی، ترسیلات زر کا ہدف خطرے میں
پاکستان کی معیشت کے لیے اہم سمجھی جانے والی ترسیلات زر کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے چکے ہیں۔ بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس نے متعلقہ حلقوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے چھ ماہ کے اعداد و شمار کے مطابق بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والوں کی تعداد میں 20 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رواں سال جنوری سے جون تک صرف تین لاکھ سترہ ہزار پاکستانی ورک ویزا پر بیرون ملک گئے، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد تین لاکھ اکیاسی ہزار دو سو پچاس رہی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دسمبر 2026 تک آٹھ لاکھ افراد کو بیرون ملک ملازمت پر بھیجنے کا ہدف حاصل کرنا اب مشکل دکھائی دیتا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان اور دیگر خلیجی ممالک ترسیلات زر کے اہم ذرائع سمجھے جاتے ہیں، تاہم ناقص پالیسیوں کے باعث مڈل ایسٹ میں پاکستانی ورکرز کے روزگار کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں۔
اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے مطابق نیوٹیک ٹیسٹنگ سسٹم اور بھاری فیسیں بیرون ملک جانے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہیں۔ کمپیوٹر کے استعمال سے ناواقف مزدور نیوٹیک کے پیچیدہ طریقہ کار کو سمجھنے میں دشواری کا سامنا کر رہے ہیں۔ ٹیسٹنگ، میڈیکل معائنے اور دستاویزات کی تیاری پر ورکرز کو ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک اضافی خرچ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ بیرون ملک روزگار کے اخراجات کم کرنے کے لیے حکومت فیسوں میں کمی کرے۔ مالی سال 2025-26 میں اوورسیز پاکستانیوں نے ریکارڈ 41.5 ارب ڈالر وطن بھیجے، جبکہ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے ترسیلات زر کا ہدف 44 ارب ڈالر مقرر کر رکھا ہے۔
