سی آئی اے کو ایران کے جوہری معاہدے پر عملدرآمد کا یقین نہیں، ٹرمپ اور اعلیٰ حکام کو بریفنگ
امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے ایران کے ساتھ مجوزہ جوہری معاہدے پر سنجیدہ شکوک کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ اور اعلیٰ حکام کو آگاہ کردیا ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوز کے مطابق سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر بریفنگ دی کہ ایران کے اصل ارادے اور اس کا مذاکراتی مؤقف آپس میں مطابقت نہیں رکھتے۔ رپورٹس کے مطابق ایران کی اندرونی گفتگو اور معاہدے میں کیے جانے والے وعدوں کے درمیان نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے بھی مجوزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ دوسری طرف نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس معاہدے کی حمایت کرتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت امریکی حکومت کی تمام بنیادی شرائط پوری کرتی ہے — ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکے گا، زیادہ افزودہ یورینیم ذخیرہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور دنیا کی توانائی فراہمی کو یرغمال نہیں بنایا جاسکے گا۔ عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ مختلف آراء سنتے ہیں لیکن حتمی فیصلہ صرف ان کا ہوتا ہے اور وہ صرف اسی معاہدے کو قبول کریں گے جو مکمل طور پر امریکی مفادات کا تحفظ کرے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگلے دو سے تین ہفتوں میں واضح ہوجائے گا کہ ایران جوہری رعایتیں دینے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔ ایران کو ملنے والے تمام فوائد اس کے عملی اقدامات سے مشروط ہیں اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں مذاکراتی عمل روک دیا جائے گا۔
معاہدے میں آبنائے ہرمز کو جلد کھولنے کی شق بھی شامل ہے۔ ایران 60 دن تک تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کی کوشش کرے گا اور اس دوران کوئی فیس وصول نہیں کرے گا۔ امریکا اپنی بحری پابندیاں مرحلہ وار ختم کرے گا اور 30 دنوں میں مکمل طور پر ہٹا لے گا۔ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام کے حوالے سے ایران اور عمان باہمی بات چیت کریں گے جبکہ خلیجی ممالک بھی اس عمل کا حصہ ہوں گے۔
حتمی معاہدے میں ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کا منصوبہ بھی شامل ہوگا۔ تاہم معاہدے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ صرف اسی صورت عملی شکل اختیار کرے گا جب ایران اپنا جوہری پروگرام ختم کرے اور واضح اصلاحات نافذ کرے۔
سی آئی اے اور وزارت خارجہ نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا جبکہ پینٹاگون کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
