پاکستان میں طویل خشک موسم کے بعد مختلف شہروں میں بارشیں اور پہاڑوں پر برفباری کا آغاز ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بارشیں گذشتہ چار پانچ سال کے معمول کے مطابق ہوئی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، گذشتہ دو روز میں سب سے زیادہ بارش پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے گڑھی دوپٹہ میں 23 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ صوبہ پنجاب کے پہاڑی علاقے مری میں 19، خیبر پختونخوا کے علاقے بالاکوٹ میں 17 اور گلگت بلستان کے علاقے استور میں 16 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے شمالی علاقہ جات میں پہاڑوں اور بعض سیاحتی مقامات بشمول مالم جبہ میں بھی برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا میں محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فہیم خان نے بتایا کہ ایک طویل خشک وقفے کے بعد یہ بارش ہوئی ہے لیکن یہ بارش گزشتہ چار سے پانچ سالوں کے تسلسل کے مطابق ہے۔
انھوں نے بتایا کہ پہلے دسمبر میں اس سے کہیں زیادہ بارشیں ریکارڈ کی جاتی رہی ہیں۔
خیبر پختونخوا کے سیاحوں کے سہولت مرکز کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، اب تک گلیات کے علاقے میں برفباری نہیں ہوئی ہے۔ خیبر پختونخوا کے جن علاقوں میں برفباری ہوئی ہے ان میں:
- بالائی چترال: ایک انچ برفباری
- دیر: 2 سے 3 انچ برفباری
- مالم جبہ: 3 سے 4 انچ برفباری
- کالام: 2 انچ برفباری
ادھر گلگت بلستان سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ اگرچہ پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے لیکن شہری علاقوں میں جہاں ہر سال دسمبر میں برفباری ہوا کرتی تھی اب تک برف نہیں پڑی ہے۔
ہنزہ میں موجود محمد حنیف نے بتایا ہے کہ ہنزہ سے سوست اور پاک چین سرحد کی طرف جائیں تو یہاں اب تک بارش بھی نہیں ہوئی ہے اور موسمی تبدیلی کا اثر یہاں محسوس کیا جا رہا ہے حالانکہ پہلے ان دنوں میں اچھی خاصی بارش اور برف پڑتی تھی۔
سکردو سے مقامی صحافی موسی نے بتایا ہے کہ سکردو شہر میں برف نہیں پڑی لیکن پہاڑوں پر برفباری ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا شیلا، کتی شو، بشو، دیوسائی، گلتری اور شگر کے ٹو کے دامن میں واقع علاقوں، خصوصاً اسکولی کے علاقے میں، سیزن کی پہلی برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔
ادھر خیبر پختونخوا کے بالائی علاقے مالم جبہ سے ہوٹل مالک حیات حسین نے بتایا کہ یہاں برفباری ہوئی تو ہے لیکن بہت زیادہ نہیں۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں اس علاقے میں برفباری نہ ہونے کے برابر تھی بعد ازاں فروری اور مارچ میں برف باری ہوئی تھی۔
