پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں دونوں جانب سے جھڑپوں میں بھاری نقصانات کے دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔
جمعرات کی رات طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ افغان فورسز نے پاک افغان سرحد پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں کیں اور متعدد پوسٹس پر قبضہ بھی حاصل کیا۔ ان کے مطابق ان جھڑپوں میں پاکستانی اہلکار ہلاک بھی ہوئے، تاہم اس حوالے سے کوئی غیر جانبدار تصدیق موجود نہیں۔
طالبان کے ان بیانات کے بعد پاکستانی حکومت نے سرکاری ردعمل میں کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں “بلااشتعال کارروائی” کی گئی جس کا پاکستانی فورسز نے فوری اور مؤثر جواب دیا۔
وزارتِ اطلاعات کے مطابق چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ کے سرحدی سیکٹرز میں سکیورٹی فورسز ہائی الرٹ ہیں اور طالبان فورسز کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق افغان طالبان کو جانی نقصان پہنچا اور ان کی متعدد پوسٹس تباہ کی گئیں، تاہم ان دعوؤں کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
دفاعی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ چترال اور باجوڑ سیکٹر میں افغان طالبان کی کم از کم دو چیک پوسٹس تباہ کی گئیں، جس سے سرحدی محاذ پر کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سرحدی جھڑپیں نہ صرف علاقائی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں بلکہ یہ صورتحال دہشتگردی، سرحدی تنازعات اور سفارتی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دعوؤں اور جوابی دعوؤں کے اس ماحول میں زمینی حقائق کی غیر جانبدار تصدیق انتہائی اہم ہے، کیونکہ اطلاعاتی جنگ (Information Warfare) بھی ایسے تنازعات کا اہم حصہ بن چکی ہے۔
