واشنگٹن: امریکا بھر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ’نو کنگز‘ (No Kings) تحریک کے تحت ہزاروں احتجاجی ریلیوں کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔
منتظمین کے مطابق ہفتے کے روز تمام 50 ریاستوں میں 3200 سے زائد مظاہرے ہوں گے، جنہیں امریکا کی تاریخ کا سب سے بڑا ایک روزہ پرامن احتجاج بنانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
اہم ریلیاں نیویارک، لاس اینجلس، واشنگٹن ڈی سی اور مینیسوٹا کے بڑے شہروں میں منعقد ہوں گی، تاہم منتظمین کا کہنا ہے کہ اس بار بڑی تعداد میں لوگ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں سے بھی احتجاج میں شریک ہوں گے۔
تحریک کی بانی تنظیم Indivisible کی شریک بانی لیا گرین برگ کے مطابق اس احتجاج کی خاص بات صرف شرکاء کی تعداد نہیں بلکہ یہ ہے کہ مظاہرے ملک کے ہر حصے میں پھیل رہے ہیں۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ آئندہ وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) کے پیش نظر عوامی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر ریپبلکن ریاستوں میں بھی احتجاجی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ان مظاہروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں “ٹرمپ کے خلاف بے بنیاد ردعمل” قرار دیا ہے۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے باعث خطے میں کشیدگی عروج پر ہے، جس پر بھی مظاہرین نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ مظاہرے بڑی تعداد میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ امریکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، خاص طور پر آئندہ انتخابات کے تناظر میں۔
