عالمی منظرنامہ (پیر کا خلاصہ):
Iran ایک بار پھر United States کے ساتھ پاکستان میں ممکنہ امن مذاکرات پر غور کر رہا ہے، تاہم ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ایرانی چیف مذاکرات کار Mohammad Baqer Qalibaf نے امریکی صدر Donald Trump پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ناکہ بندی اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے ذریعے دباؤ بڑھا رہا ہے، اور ایران دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں کرے گا۔
ادھر واشنگٹن کی کوشش ہے کہ جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے پاکستان میں مذاکرات شروع کیے جائیں، تاہم ممکنہ معاہدے کی نوعیت اور کامیابی کے امکانات ابھی واضح نہیں۔
ایک اور پیشرفت میں امریکی نائب صدر JD Vance کے پاکستان روانگی کی خبروں کی تردید کی گئی ہے، جس سے صورتحال مزید غیر یقینی ہو گئی ہے۔
توانائی مارکیٹ میں بھی بے چینی دیکھی گئی، جہاں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا۔ بحری ڈیٹا کے مطابق Strait of Hormuz میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک چکی ہے، خاص طور پر اس واقعے کے بعد جب امریکا نے ایک ایرانی کارگو جہاز کو قبضے میں لیا اور تہران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔
ذرائع کے مطابق جنگ بندی کی ممکنہ مدت بدھ کو ختم ہو سکتی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب Lebanon میں بھی صورتحال کشیدہ ہے، جہاں Israel نے جنوبی علاقوں میں شہریوں کو سرحدی پٹی سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ جنگ بندی کے باوجود اپنی عسکری موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے۔
