مہینے کے آخری دن طلوع ہونے والا مکمل چاند خاص کیوں ہوگا؟
وضاحت: احمد عباس
اس مہینے کے آخری دن، یعنی 31 مئی 2026 کو آسمان پر ایک دلچسپ فلکیاتی مظہر دیکھنے کو ملے گا۔ مئی میں یہ دوسری بار مکمل چاند طلوع ہوگا، اور جب کسی ایک ہی مہینے میں دو بار چودھویں کا چاند نظر آئے تو دوسرے کو "بلیو مون” کہتے ہیں۔
مئی کا پہلا مکمل چاند یکم مئی کو افق پر نمودار ہوا تھا۔ اب 31 مئی کو یہ سلسلہ دوبارہ ہوگا۔ یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ بلیو مون کا مطلب چاند کا رنگ نیلا ہونا ہرگز نہیں — یہ محض ایک اصطلاح ہے جو انگریزی مہینے میں دوسری بار آنے والے پورے چاند کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
اس بلیو مون کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس کے سبب سال 2026 میں معمول کے 12 کی بجائے کل 13 مکمل چاند دیکھنے کو ملیں گے۔
بلیو مون کی اصطلاح کہاں سے آئی؟
اس اصطلاح کا پس منظر بھی کم دلچسپ نہیں۔ 1940 کی دہائی میں جیمز ہیوگ پریوٹ نامی شخص نے ایک جریدے میں اسے غلطی سے لکھا، اور پھر یہ لفظ عام بول چال میں اس قدر رچ بس گیا کہ آج تک مستعمل ہے۔
بلیو مون کی دو اقسام ہیں۔ پہلی "سیزنل بلیو مون” — یعنی کسی ایک موسم میں چار مکمل چاند آئیں تو تیسرے کو یہ نام دیا جاتا ہے۔ اس طرح کا آخری بلیو مون 19 اگست 2024 کو نظر آیا تھا۔ دوسری قسم "منتھلی بلیو مون” ہے جس کی وضاحت اوپر آ چکی ہے، اور اس نوعیت کا گزشتہ بلیو مون اگست 2023 میں دیکھا گیا تھا۔
مائیکرو مون بھی ہوگا
ایک اور خاص بات یہ ہے کہ مئی کے دونوں مکمل چاند "مائیکرو مون” ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان دنوں چاند زمین سے اپنے سب سے زیادہ فاصلے پر ہوتا ہے جسے فلکیات کی زبان میں "اپوجی” کہتے ہیں۔ 31 مئی کو چاند زمین سے تقریباً 4 لاکھ 6 ہزار کلومیٹر دور ہوگا، یوں یہ معمول کے مکمل چاند کے مقابلے میں 7 فیصد چھوٹا اور 30 فیصد کم روشن دکھائی دے گا۔ خوبصورتی اپنی جگہ، مگر اس بار چاند کی چمک قدرے ماند رہے گی۔
