Table of Contents
بھارت کے وزیراعظم Narendra Modi دو روزہ دورے پر اسرائیل پہنچ رہے ہیں جہاں وہ اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جیوپولیٹیکل تناؤ بڑھ رہا ہے اور دفاعی و اقتصادی شراکت داری عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مودی کے دورے کا مرکزی ایجنڈا سیکیورٹی معاہدوں کو اپ گریڈ کرنا، دفاعی تعاون بڑھانا اور جدید ٹیکنالوجی، AI، سائبر سیکیورٹی اور کوانٹم ٹیکنالوجی میں مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینا ہے۔
اہم ملاقاتیں اور شیڈول
مودی تل ابیب کے بن گوریون انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچیں گے جہاں ان کا استقبال نیتن یاہو کریں گے۔ بعد ازاں وہ یروشلم میں اسرائیلی پارلیمنٹ Knesset سے خطاب بھی کریں گے اور ہولوکاسٹ میموریل Yad Vashem کا دورہ کریں گے۔
اس دورے کے دوران اسرائیلی صدر Isaac Herzog سے ملاقات اور متعدد دوطرفہ معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔
بھارت-اسرائیل تعلقات: تاریخی تبدیلی
بھارت نے 1948 میں اسرائیل کے قیام کی مخالفت کی تھی اور 1992 میں باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ تاہم 2014 میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں غیرمعمولی تیزی آئی۔
آج بھارت ایشیا میں چین کے بعد اسرائیل کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے جبکہ تجارت 1992 کے 200 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں تقریباً 6.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
دفاعی و اسٹریٹجک اہمیت
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت اب اسرائیل کا ایک بڑا دفاعی خریدار ہے اور دونوں ممالک دفاعی ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس تعاون اور سیکیورٹی پارٹنرشپ کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔
اسرائیلی سفیر رووین آزار کے مطابق دونوں ممالک فری ٹریڈ ایگریمنٹ اور انفراسٹرکچر سرمایہ کاری پر بھی پیشرفت کر رہے ہیں، جبکہ اسرائیل بھارتی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کی دعوت دے رہا ہے۔
جیوپولیٹیکل پس منظر
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران-امریکہ کشیدگی، غزہ صورتحال اور علاقائی اتحادوں کی نئی صف بندی عالمی سیاست کو متاثر کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دورہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی اسٹریٹجک سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
