Table of Contents
امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں Ayatollah Ali Khamenei کی شہادت کے بعد ایران کی سیاست میں ایک نیا باب کھل گیا ہے۔ ریاستی میڈیا کے مطابق ان کے بیٹے Mojtaba Khamenei کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے۔
56 سالہ مجتبیٰ خامنائی کئی دہائیوں سے ایران کے طاقتور حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے تھے، اگرچہ وہ عوامی سیاست میں زیادہ نمایاں نہیں رہے۔
جنگ کے سائے میں قیادت کی تبدیلی
رپورٹس کے مطابق جس حملے میں آیت اللہ علی خامنائی شہید ہوئے، اس میں ان کے خاندان کے چند افراد بھی جاں بحق ہوئے۔ تاہم مجتبیٰ خامنائی اس وقت وہاں موجود نہیں تھے اور وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔
ایران کی اسمبلی آف ایکسپرٹس — جو 88 علما پر مشتمل ادارہ ہے اور سپریم لیڈر کا انتخاب کرتا ہے — نے ایک بیان میں کہا کہ مجتبیٰ خامنائی کو واضح اکثریت کے ساتھ منتخب کیا گیا۔
ادارے نے ایرانی عوام، خصوصاً دانشوروں اور مذہبی و تعلیمی حلقوں سے اپیل کی کہ وہ نئی قیادت کے ساتھ اتحاد برقرار رکھیں۔
پس منظر اور اثر و رسوخ
اگرچہ مجتبیٰ خامنائی نے کبھی کوئی عوامی انتخاب نہیں لڑا، لیکن وہ طویل عرصے سے ایران کے طاقتور اداروں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں، خاص طور پر
Islamic Revolutionary Guard Corps۔
ایران عراق جنگ کے دوران وہ IRGC کے حبیب بٹالین کے ساتھ وابستہ رہے، جہاں سے ان کے کئی ساتھی بعد میں سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں میں اہم عہدوں تک پہنچے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہی نیٹ ورک ان کے اثر و رسوخ کی بنیاد بنا۔
کم نمایاں مگر بااثر شخصیت
مجتبیٰ خامنائی نے ہمیشہ کم پروفائل سیاست کو ترجیح دی۔
وہ نہ جمعہ کے خطبات دیتے رہے، نہ ہی عوامی جلسوں میں زیادہ نظر آئے۔
یہاں تک کہ بہت سے ایرانیوں نے ان کی آواز بھی شاید ہی کبھی سنی ہو۔ اس کے باوجود طاقت کے مراکز میں انہیں طویل عرصے سے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
نئے دور کے اشارے
مجتبیٰ خامنائی کی قیادت ایران کی سیاست میں ایک واضح اشارہ سمجھی جا رہی ہے:
سخت گیر اور مزاحمتی پالیسی برقرار رہے گی۔
خطے میں جاری جنگ اور بیرونی دباؤ کے ماحول میں ایران کی نئی قیادت ممکنہ طور پر مذاکرات سے پہلے طاقت کے توازن کی حکمت عملی جاری رکھے گی۔
ایران کا سیاسی تسلسل
ایران کے نظام میں قیادت کی تبدیلی کوئی نیا عمل نہیں۔
1989 میں بھی جب آیت اللہ خمینی کا انتقال ہوا تھا تو آیت اللہ علی خامنائی نے قیادت سنبھالی اور تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ملک کی رہنمائی کی۔
اب ایک مرتبہ پھر ایران ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جہاں داخلی اتحاد اور مزاحمت کو مرکزی حیثیت حاصل ہو سکتی ہے۔
