پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں بے بنیاد — اماراتی حلقوں کی پرزور تردید
دبئی میں پاکستانی شہریوں کی مبینہ بے دخلی سے متعلق ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے۔ اماراتی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، البتہ حکومتی حلقوں سے قریب سمجھے جانے والے اماراتی تجزیہ کاروں اور مبصرین نے ان اطلاعات میں موجود فرقہ وارانہ پہلو کو سختی سے رد کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے قوانین اور سکیورٹی ضوابط کا اطلاق تمام شہریوں اور مقیم افراد پر یکساں ہوتا ہے۔ مذہب، مسلک یا قومیت کی بنیاد پر کسی کے خلاف کارروائی کا کوئی تصور موجود نہیں۔ اماراتی مبصرین نے یہ بھی یاد دلایا کہ پاکستان کی وزارت داخلہ خود اس بات کی وضاحت کرچکی ہے کہ اگر کسی پاکستانی شہری کے خلاف کوئی اقدام ہوا ہے تو اس کا تعلق ویزا شرائط، قانونی خلاف ورزی یا سکیورٹی معاملات سے ہوسکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت تقریباً 18 لاکھ پاکستانی متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں اور مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ امارات، پاکستان کے اہم معاشی اور سفارتی شراکت داروں میں شامل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے تبصروں میں کہا گیا کہ امارات نے ہمیشہ مختلف مذاہب اور مسالک کے لوگوں کو یکساں طور پر محفوظ ماحول فراہم کیا ہے، جہاں قانون کی بالادستی اور سماجی ہم آہنگی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ بعض مبصرین نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو وہ تفصیلات شفاف طریقے سے سامنے لائی جائیں تاکہ حقائق کا صحیح جائزہ لیا جاسکے۔
