فیفا ورلڈ کپ 2026: افریقہ کے سرفہرست ریفری کو امریکہ نے داخلے سے روک دیا
نیویارک — فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز میں صرف 48 گھنٹے باقی تھے کہ ٹورنامنٹ کو ایک شرمناک صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا۔ افریقہ کے سرفہرست ریفری، صومالی نژاد عمر آرتان کو امریکی امیگریشن حکام نے میامی ایئرپورٹ پر روک لیا اور تقریباً 11 گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد انہیں واپس بھیج دیا گیا۔ وہ دیگر 51 ریفریوں کے ساتھ ٹورنامنٹ کی آخری تیاریوں میں شامل ہونے کے لیے آئے تھے۔
آرتان کو فیفا نے باضابطہ طور پر ورلڈ کپ کی ریفریائی پینل میں شامل کیا تھا۔ ان کا صومالیہ سے تعلق ہے اور وہ براعظم افریقہ کے بہترین میچ آفیشل تصور کیے جاتے ہیں۔ میامی میں لمبی پوچھ گچھ کے بعد انہیں بورڈنگ پاس تھمایا گیا اور وطن روانہ کر دیا گیا۔
اس واقعے پر عالمی امتیاز مخالف مہم کے ادارے “فیئر” کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیارا پاور نے کہا کہ امریکی حکومت کی نظریاتی اور امتیازی ویزا پالیسی کے خدشات اب عملی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کبھی ایسا نہیں دیکھا گیا کہ باضابطہ فیفا ریفری کو ورلڈ کپ کی آخری تیاریوں کے دوران داخلے سے روکا گیا ہو۔
اس سے قبل بھی خدشات موجود تھے کہ بعض ممالک کے شائقین کو امریکہ میں داخلے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں، لیکن یہ پہلا موقع ہے جب ٹورنامنٹ کا ایک سرکاری اہلکار خود اس صورتِ حال کا شکار ہوا ہے۔ اس معاملے نے یہ بھی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا امریکی محکمہ آئی سی ای (امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ) کے اہلکار میچوں کے دوران اسٹیڈیموں میں بھی موجود ہوں گے، اور یہ تماشائیوں کو کس حد تک متاثر کر سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب فیفا کے اپنے نامزد ریفری کو اسٹیڈیم تک پہنچنے سے پہلے روک لیا گیا، تو ٹورنامنٹ کے باہر کیا ہوتا رہے گا، اس پر فیفا کتنا اختیار رکھتی ہے؟ اس سارے معاملے نے عالمی فٹبال کی سب سے بڑی تنظیم کی ساکھ اور اثر و رسوخ پر سنجیدہ سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔
